جسم تو معذور ہو سکتے ہیں، صلاحیتیں کبھی معذور نہیں ہوتیں حیران کن معلومات

معذور شہریوں کی سماجی شمولیت

ہر شہری کا حق ہے کہ اسے مساوی حقوق اور مواقع میسر ہوں، ہر فرد کی عزت ، صلاحیت اور قدر کو تسلیم کیا جائے۔اور کسی قسم کا امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔معذورافراد کو مساوی سلوک ، سہولیات اور خدمات تک مساوی رسائی کا حق حاصل ہو۔معذور افراد انسانی معاشرے کا وہ حصہ ہیں جو عام افراد کی نسبت زیادہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔کوئی بھی مہذب معاشرہ معذوروں کو نظر انداز کر کے انہیں معاشرے میں قابلِ احترام مقام سے محروم رکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔روز مرہ کی عام زندگی اور کام پر معذور افراد بالکل ان ہی مواقع اور عنایتوں کے مستحق ہیں جیسےکہ صحت مندافراد۔

اچھی تعلیم و تربیت اور بہتر نگہداشت نہ صرف صحت مندبلکہ معذور افراد کا بھی بنیادی حق ہے ۔چونکہ معذور افراد معاشرے میں اپنی شناخت اور وقار کے لئے خصوصی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔اس لیے وہ ان تمام حقوق کےمستحق ہیں جو عام افراد کو معاشرے میں میسر ہیں۔معذور افرادکو آئے روز مختلف اقسام کی رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔یہ رکاوٹیں زیادہ تر معذور افراد کی جسمانی ساخت میں کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں یا پھر معاشرے کے رویوں اور نظاموں سے متعلق ہوتی ہیں۔یاد رکھیں ، معذور افراد معاشرے کے Disable افراد نہیں ہوتے بلکہ انہیں ہمارے رویے Disable کر دیتے ہیں۔

معذور افراد کی دیکھ بھال، تعلیم و تربیت، بہتر نگہداشت انفرادی ہی نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے جس کے لئے بحیثیت قوم ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔معذور افراد کی دیکھ بھال اور انہیں زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھانے کے لئے ان کی ہر طرح سے معاونت کرنا نہ صرف ان کے والدین یا فیملی کی ذمہ داری ہے بلکہ معاشرے پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے افراد کی بہتر تربیت کے لئے ایسے ادارے قائم کریں جہاں ان کی خصوصی نگہداشت اس طرح سے ہو سکے کہ یہ معذور افراد اپنی معذوری کی وجہ سے خود کو عام انسانوں کی طرح محسوس کرسکیں۔انہیں جسمانی معذوری پر کوئی شرمندگی نہ ہو اور یہ کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو کمتر نہ سمجھیں۔

معذور افراد اکثر معاشرے میں زندگی گزارتے ہوئے اپنے ماحول میں رہنے والے دیگر افراد کے طنزیہ جملوں اور نامناسب ناموں سے پکارے جانے کی وجہ سے شدید ذہنی کوفت کا شکارہو کر احساس محرومی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اس لیے سب سے پہلے تو ہمیں اپنا رویہ اور سوچ بدلنی ہو گی اور ایسے افراد کے ساتھ احترام آدمیت کے اصولوں کے تحت نہ صرف ہمدردانہ لب و لہجے سے بات کرنا ہو گی بلکہ معذور افراد کو احساس محرومی سے نکال کر ان کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہو گی۔اور اپنے آنے والی نسلوں کی تربیت بھی ایسے خطوط پر استوار کرنا ہو گی کہ وہ بھی معذور افراد کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں اپنے جیسا سمجھیں۔

بہتر تربیت ، خصوصی توجہ اور حوصلہ افزائی کے ذریعے ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور افراد نے بھی مختلف فنون میں نمایاں مقام حاصل کیا اور اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوایا ہے۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اظہار ہمدردی کے بجائے عملی توجہ اور اپنائیت کے ذریعے انھیں معاشرے کا ایک سُود مند اور فعال فرد بنایا جائے۔اِس ضمن میں ہمارے معاشرے کی ایک چھوٹی سی کاوِش اِن افراد کی مخفی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے میں سُود مند ثابت ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14 اکتوبر 1992ء کی ایک متفقہ قرار داد میں ہر سال تین دسمبر کا دن ، معذور افرادکے عالمی دن کے طور پر منانے کی باضابطہ منظور ی دی تھی۔اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھرکے معذور افراد کو درپیش مسائل کواجاگر کرنا اور معاشرے میں ان افراد کی افادیت پر زور ڈالنا ہے۔دنیا بھر میں اس دن اسی مناسبت سے مختلف سرکاری و نیم سرکاری، سماجی تنظیموں اور این جی اوز کے زیراہتمام سیمینارز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاکہ لوگوں کو قائل کیا جا سکے کہ وہ معذور افراد کے لئے ہر ممکن مثبت کوششیں بروئے کار لائیں۔

:پاکستان میں معذور شہریوں کی سماجی حیثیت

عوام کی فلاح و بہبود اور حقوق کی پاسداری کرنا کسی بھی فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔فلاحی ریاست میں حاکمِ وقت عوام کی بنیادی ضروریات، مثلاً تعلیم، صحت، روزگار وغیرہ کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔معاشرے کے کمزور طبقات خصوصاً معذورین کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنانا بھی ایک فلاحی ریاست کا اہم ترین فریضہ شمار ہوتا ہے۔

مغربی اقوام معذورین کے لیے معاشرتی شمولیت، تعلیم برائے معذور افراد، خدمت گاروں کی فراہمی اور معذور افراد کے حقوق کی پاسداری کےغیر امتیازی قوانین کے ذریعے انہیں ملک کا فعال اور مفید شہری بنانے کے لیے بےشمار اقدامات کر رہی ہیں۔مگر بد قسمتی سے ایک تو ہمارے ملک میں معذور افراد کے حقوق کی پاسداری کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے، اور دوسرا اگر کوئی قانون موجود ہے تو بھی اُس پر کسی طور عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

مثلاً قومی بحالی و روزگار برائے معذوران ایکٹ 1981 کے تحت تمام نجی و سرکاری اداروں میں ملازمتوں کا 2 فیصد کوٹہ معذور افراد کے لیے مختص ہے۔اس ایکٹ کے مطابق پاکستان میں موجود معذور افراد کے لیے ملازمتوں میں 2 فیصد کوٹہ، علاج کی مفت سہولتیں، اور اعضاء کی بحالی کے اقدامات شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ معذور افراد کے بچوں کی سرکاری اداروں میں 75 فیصد جب کہ نجی اداروں میں 50 فیصد فیس معافی اور روزگار کی فراہمی کو لازم قرار دیا گیا۔سرکاری اداروں میں کسی حد تک اس پر عملدرآمد ہو رہا ہے مگر نجی ادارے اس قانون پر بالکل بھی عملدرآمد نہیں کرتے۔حکومتی سطح پر کوئی ایسا مانیٹرنگ سسٹم بھی موجود نہیں جو نجی اداروں کی اس قانون شکنی پر انہیں سرزنش کرے اور بھاری جرمانے بھی عائد کرے۔

عالمی اور مقامی جائزوں کے مطابق مطابق پاکستان کی کل آبادی کا پندرہ(15) فیصد معذور افراد پر مشتمل ہے، اور ملک میں جاری دہشت گردی، قدرتی آفات (زلزلے، سیلاب وغیرہ) اور ٹریفک حادثات کی وجہ سے معذور افراد کی تعداد مزید بڑھتی جا رہی ہے۔World health organization 2009کی روشنی میں ہر ملک اپنی مجموعی آبادی کا دس (10)فیصد معذور کاؤنٹ(Count) کرنے اور اسی تناسب سے انہیں ملازمت اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہے چنانچہ اسی تناسب سے بھی اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں دو کروڑ سے زائد آبادی معذور افراد پر مشتمل ہے۔چنانچہ ملک میں معذور افراد کے حقوق کی پاسداری کے حوالے سے قانون سازی انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک مثلاً امریکا، برطانیہ ، کینیڈا اور جاپان وغیرہ میں خود مختار اور نجی تنظیمیں شدید معذور افراد کے گھریلو اور ذاتی نوعیت کے کام سر انجام دینے کے لیے خدمت گار فراہم کرتی ہیں، جبکہ ان سروسز کی ادائیگی حکومتِ وقت کرتی ہے۔اس سروس کی بدولت معذور افراد گھر والوں پر بوجھ بنے بغیر اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ان ممالک میں بہترین حکومتی پالیسوں اور معاشرے میں معذوری کی آگاہی کی بدولت شدید معذور افراد تعلیم اور روزگار کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے ملکی معیشت میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔وطن عزیز پاکستان کے معذور افراد بھی معزز شہریوں کی طرح اپنے حقوق کی پاسداری چاہتے ہیں۔انہیں معاشرہ کا مفید اور فعال رکن بننے کے لیے تعلیم ، صحت، قابل رسائی ٹرانسپورٹ ، قابل رسائی عمارات اور روزگار چاہیے۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خدمت گار کی فراہمی ملکی نظام کا حصہ ہونا چاہیے۔

پاکستان میں ہر سال رمضان میں بینکوں سے اربوں روپے کی زکوۃ کٹتی ہے۔اس مالی وسائل کو با آسانی معذور افراد کے لیے خدمت گار کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔مخیر حضرات اور کاروباری ادارے بھی اس کارِ خیر میں بطورِ ہدیہ حصہ ڈال سکتے ہیں۔دوسرا یہ کہ پاکستان کی اکثریت آبادی بیروز گار ہے۔صحت مند اور غیر معذور افراد بطورِ خدمت گار اس پیشے کو اختیار کر سکتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان معذور افراد بھی معاشرے کے فعال رکن بن کر سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ دار بن سکتے ہیں۔

فلاحی معاشرہ اُس وقت تشکیل پاتا ہے جب معاشرے کے تمام افراد کو بلا امتیاز اُن کے حقوق ملنا شروع ہو جائیں۔صنف، عمر، غربت، امارت اور معذوری کی بنا پر تفریق سے معاشرہ گروہ در گروہ تقسیم ہو جاتا ہے۔ہمارے ہاں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ معذور افراد کےلئے سپیشل پرسن یا خصوصی افراد کے القاب استعمال کیے جاتے ہیں۔جس سے معذور افراد میں احساس کمتری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس معاشرے کے عام شہری کی بجائےالگ مخلوق ہیں۔

پاکستان میں معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست خصوصی تعلیمی اداروں میں کیا جاتا ہے، لیکن ان اداروں کا دائرہ کار صرف بڑے شہروں تک ہی محدود ہے۔چھوٹے شہروں اور دور دراز دیہاتوں میں تعلیم کی محرومی سے معذور بچوں کو اپنے اندر موجود بے پناہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ہی نہیں مل پاتا۔اس طرح وہ بچے معاشرے کا ایک ناکارہ فرد بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں، حالانکہ کہیں نہ کہیں ان بچوں میں ایسی قابلیت ضرور موجود ہوتی ہے کہ جس سے وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں اور مہذب معاشرے میں عزت نفس کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔پاکستانی معاشرے میں جب بھی کسی معذورشخص اور نارمل انسان کا آمنا سامنا ہوتا تو نارمل انسان تین طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے۔

  1. اگر وہ معذور شخص کوئی بااثر دولت مند ہو اور کسی قیمتی گاڑی سے نکل رہا ہو تو نارمل انسان فوراً آگے بڑھ کے اس معذور شخص کی ویل چیئر یا بیساکھی کے معاملے پر مدد کرئے گا ، سلام دعا کے بعد سب سے پہلے معذوری کی وجہ پوچھے گا، پھر اپنے کسی عزیز رشتہ دار کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے پاس سے کوئی نسخہ تجویز کرے گا، یا پھر کسی سیانے، پیر، فقیر، ڈاکٹر یا حکیم کا پتہ دے گا اوراصرار کرے گا کہ ایک دفعہ وہاں جاکر تو دیکھیں۔
  2. اب ایک دوسری صورتحال کی طرف آتے ہیں ایک نارمل انسان ایک سادہ سے کپڑے پہنے معذور شخص کو بیساکھی کے سہارے اپنی طرف آتا دیکھ کر سوچے گا کہ یہ معذور شخص اپنی کوئی مجبوری بتا کر مجھ سے پیسے مانگے گا۔اس لیے وہ وہاں سے کھسکنے کی کوشش کرے گا۔اگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتا تو پھر اپنے ذہن میں وہ بہانے تراشنے شروع کر دے گا۔جس سےوہ معذور شخص سے جان چھڑا سکے۔
  3. لیکن اس سے بھی بری صورتحال کا سامنا کسی معذور شخص کو اس وقت کرنا پڑتا ہے۔جب اس کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہو پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھ کر کوئی نارمل شخص اس کو پیشہ ور فقیر سمجھ کر دھتکار دے گا۔اگر چند سکے خیرات دے گا تو ساتھ ہی اسے لولا لنگڑا کہہ کردو چار صلواتیں بھی سنا دے گا۔اور اپنے رویے پر کبھی شرم ساری محسوس نہیں کرے گا۔

دکھ اس بات کا ہے کہ وہ لوگ جو خود کو معاشرے میں ایبل کہلاتے ہیں ان کو کبھی خیال ہی نہیں آتا کہ ایبل سے ڈس ایبل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔معذوری کی حالت میں اگر گھر کا ماحول اچھا مل جائے تو انسان بیماری سے مقابلہ کرلیتا ہے اگر ماحول اس کے برعکس ہو تو پھر زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور جسمانی معذوری کے ساتھ ذہن بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یعنی پھر جسمانی اور ذہنی دونوں قسم کی Disabilityسے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔

افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سال ہزاروں معذور علاج معالجے کی سہویات نہ ملنے کے باعث گھٹ گھٹ کر مر جاتے ہیں۔ سرکاری سطح پر انہیں وہیل چیئر اور مصنوعی اعضا تو دور کی بات، بیساکھیاں اور چھڑیاں بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔ معاشرے کی اس بےحسی میں وہ مردو ں کی طرح زندہ رہ کر قید حیات کاٹنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ان لوگوں کو ”اسپیشل پرسن“ تو کیا ، تھرڈ کلاس شہری کی حیثیت بھی حاصل نہیں ہو پاتی۔ عموماً سرکاری اور نجی سماجی تقریبات میں معذور افراد کو دعوت بھی نہیں دی جاتی اور اگر کسی تقریب میں وہ آجائیں تو انہیں حقارت آمیز اور مضحکہ خیز نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔یوں انہیں آنکھوں ہی آنکھوں میں خفت و کمتری کا احساس دلایاجاتا ہے۔

معذور افراد کو ہمارے معاشرے میں بوجھ سمجھا جاتا ہے ۔معذور افراد کی صورتحال کا جائزہ لیں توسرکاری اور نجی دفاتر، پبلک ٹرانسپورٹ، شاپنگ سینٹرز، ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشنوں اورہسپتالوں میں معذور افراد کو باآسانی رسائی ممکن نہیں۔چونکہ عمارتوں کے انفراسٹرکچر میں معذور افراد کی سہولتوں کو مدنظر نہیں رکھا جاتا جس کی وجہ سے جگہ جگہ معذور افراد کو اذیت کا احساس ہوتا ہے اور ان کی اکثریت گھروں تک محدود ہوجاتی ہے لہٰذا معذوروں کے احساس محرومی کا خاتمہ کرنے اور ان کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ یہ معاشرے کا حصہ بن سکیں۔

پاکستان میں معذور افراد کو قومی ترقی کے عمل میں شامل نہ کیئے جانے کے باعث روزانہ کی بنیاد پر ایک ملین ڈالر کا نقصان ہورہا ہے ۔ملک میں اس وقت معزور افراد کے لیئے کام کرنے والے سرکاری محکموں کی کمی ہے معذورد افراد کے لیئے ایک خصوصی کمیشن بنایا جانا چاہیئے اور ہر سطح پر لوگوں کے لیئے عام تربیتی کورسسز کا اجراء کیا جانا چاہیئے کہ وہ ایسے افراد سے خواہ وہ اِنکے اپنے گھر میں ہی کیوں نہ ہوں کس طرح پیش آئیں۔ اور انھیں کس طرح مدد کریں ۔ ایسی سہولیات اور چیزوں کا حصول آسان بنانا چاہیئے جو ان کے لئے ایک نارمل انسان کی طرح کام کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔

:جسم معذور ہو سکتے ہیں، صلاحیتیں معذور نہیں ہوتی

صلاحیتیں جسم کی محتاج نہیں ہوتی، کیونکہ جسم تو معذور ہو سکتے ہیں لیکن صلاحیتیں کبھی معذور نہیں ہوتیں۔معذور افراد کی صلاحیتیں اور ان میں ملک و ملت کی خدمت کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ نارمل انسانوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔معذور افراد نے دنیا کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا ہے ، انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے معذوری کو شکست دے کر معاشرے میں اپنا مقام بنایا، اور اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کر دیاہے کہ صلاحیتوں کےلئے جسم کی نہیں حوصلے اور یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔

جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں بے شمار ایسی مثالیں نظر آتی ہیں کہ جس میں معذور افراد نے اپنی صلاحیتوں کے دم پروہ کر دکھایا، جو عام نارمل انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔انہیں میں سے ایک نام اسٹیفن ہاکنگ کا ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ8 جنوری1942 ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئے۔جب وہ اکیس برس کے تھے ۔تو وہ موٹر نیوران ڈزیز نامی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔اس بیماری میں انسان کا جسم آہستہ آہستہ مفلوج اور معذور ہو جاتا ہے۔اس بیماری نےاُنھیں رفتہ رفتہ مفلوج و معذور بنا کر جسمانی طور پر وہیل چیئر تک محدود کر دیا ۔سب سے پہلے اُن کی ہاتھ کی انگلیاں مفلوج ہوئیں، پھر اُن کے ہاتھ، پھر بازو، پھر بالائی دھڑ، اس کےبعد اُن کے پاؤں، پھر اُن کی ٹانگیں اور آخر میں اُن کی زبان بھی مفلوج ہوگئی۔یوں وہ 1965ء میں وہیل چیئر تک محدود ہوگئے۔پھر اُن کی گردن دائیں جانب ڈھلکی اور مرتے دم تک سیدھی نہ ہو سکی۔

اسٹیفن ہاکنگ خوراک اور واش روم کیلئے بھی دوسروں کا محتاج ہو گیا تھا۔اس کے پورے جسم میں صرف پلکوں میں زندگی موجود تھی۔وہ صرف پلکیں ہلا سکتا تھا۔طبی ماہرین نے 1974ء میں ہاکنگ کو “الوداع” کہہ دیا لیکن اس عظیم انسان نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔مفلوج جسم کے ساتھ اسٹیفن نے اپنی نیم مردہ پلکوں پر ہی زندہ رہنے، آگے بڑھنےاور عظیم سائنسدان بننے کا خواب دیکھا۔اُس نے و ہیل چیئرپر کائنات کے رموز کھولنا شروع کیے جس سے پوری سائنسی دُنیا حیران رہ گئی۔

کیمبرج کے کمپیوٹر سائنسدانوں نے ہاکنگ کیلئے “ٹاکنگ کمپیوٹر” بنایا۔کمپیوٹر اُس کی وہیل چیئر پر لگا دیا گیا تھا۔کمپیوٹر اُس کی پلکوں کی زبان کوسمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔پلکیں ایک خاص زاویے میں ہلتی تھیں۔جولفظوں کی شکل اختیار کرتے تھے۔وہ لفظ کمپیوٹر کی اسکرین پر ٹائپ ہوجاتے تھے اور بعدمیں ا سپیکر کے ذریعے سنے اور سنائے جانے لگتے تھے۔اس طرح اسٹیفن ہاکنگ دُنیا کا واحد شخص تھا جو اپنی پلکوں سے بولتا تھا اور پوری دُنیا اس کی آواز سنتی تھی۔اسٹیفن ہاکنگ نے پلکوں کی اسی جنبش کے ذریعے سے بہت سی کتابیں لکھیں۔

اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب اےبریف ہسٹری آف ٹائم (A Brief History of Time) نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیاتھا۔یہ کتاب237 ہفتےتک دُنیا کیBest Seller کتاب رہی اوردُنیا بھر میں خریدی اور پڑھی گئی۔اسٹیفن نے90ء کی دہائی میں ایک نیا کام شروع کیا تھا کہ مایوس اور نااُمید لوگوں کو زندگی کی خوبصورتیوں کے بارے میں لیکچر دے کر اُن کے عزم اور حوصلے کو بڑھاتا رہا۔دُنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اور یونیورسٹیوں میں اسے لیکچرز کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔وہ اپنی معذوری کی مثال دے کر عزم اور حوصلے کو مستحکم بنانے کے لیے اکثر کہتے تھے کہ؛

’’ اگر میں اس معذوری کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہوں۔اگر میں میڈیکل سائنس کو شکست دے سکتا ہوں۔اگرمیں موت کا راستہ روک سکتا ہوں تو تم لوگ جن کے سارے اعضا سلامت ہی، جو چل سکتے ہیں اور جودونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے، جوکھا پی سکتے ہیں، جو قہقہہ لگا سکتے ہیں اورجو اپنے تمام خیالات دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں وہ کیوں مایوس ہیں؟‘‘

اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی معذوری کو اپنی طاقت بنا لیااور اپنی صلاحیتوں سے ثابت کر دیا کہ جسم تو معذور ہو سکتے ہیں لیکن صلاحیتیں کبھی معذور نہیں ہوتیں۔اسٹیفن ہاکنگ نے اس قدر عالمی شہرت حاصل کی تھی کہ اُن کی پی ایچ ڈی تھیسس کی آن لائن اشاعت کے کچھ ہی دیر بعد اُس کی مقبولیت کی وجہ سے کیمبرج یونیورسٹی کی ویب سائٹ کریش (Crash) ہوگئی تھی۔تھیسس کی اشاعت کے کچھ ہی گھنٹوں کے اندر60 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس سائٹ کا رُخ کیاتھا۔

اسٹیفن نے بلیک ہول اور ٹائم مشین کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔وہ معذور ہونے کے باوجود1979سے 2009تک کیمبرج یونیورسٹی کے اُس عہدے پر فائز رہے جس پر کبھی مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن فائز تھا۔اسٹیفن ہاکنگ کوایک طرف تو دور حاضر کا افلاطون گردانا جاتا تھاتو دوسری طرف آج کے دور کا آئن سٹائن بھی کہا جاتا ہے ۔76 سال کی عمر میں 14مارچ2018کو ان کا انتقال ہوگیا۔

خوش قسمتی سے اسٹیفن ہاکنگ ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جہاں کے لوگ معذوری کو کسی گناہ کی سزا نہیں سمجھتے، معذور افراد کو لاچار اور محتاج سمجھ کر گھروں میں قید نہیں رکھا جاتا اور نہ ہی ثواب کمانے کی خاطر انہیں صرف زکوٰۃ اور صدقات کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔اسٹیفن ہاکنگ کا تعلق ایک ایسے ترقی یافتہ ملک سے تھا جہاں معذور افراد کی ذہنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔وہاں کے معاشرے معذور افراد کو بھی اپنی ہی طرح خدا کی مخلوق سمجھتے ہوئے اپنے رویوں میں تبدیلی لے آتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک اپنے معاشرے میں معذور افراد کو متحرک رکھنے کے لیے عمارتوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو قابل رسائی بناتے ہیں۔اور ان کی معاشرے میں بھرپور شراکت کو قائم رکھنے کے لیے انفراسٹرکچر میں بھی خاصی تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔

پاکستان میں معذور افراد کے لئے ایسی کوئی سہولیات نہیں ہیں اور نہ ہی یہاں کے لوگ اپنے رویوں میں تبدیلی لا رہے ہیں۔لیکن اس کے باوجو د اِس ملک میں بہت سے افراد ایسے ہیں کہ جنہوں نے اپنی صلاحیتوں سے ثابت کر دیا ہے کہ جسم تو معذور ہو سکتے ہیں ، لیکن صلاحیتیں کبھی معذور نہیں ہوتیں۔ایسا ہی ایک نام امجد صدیقی کا ہے۔جنہوں نے نا قابل علاج شدید معذوری میں مبتلا ہونے کے باوجود بلند حوصلے، دیانتداری اور مستقل مزاجی سے ثابت کر دیا ہے کہ صلاحیتوں جسم کی محتاج نہیں ہوتیں۔

25 دسمبر1981 کو امجد صدیقی کی کار کو حادثہ پیش آیا جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگی اور جسم کا تین چوتھائی حصہ مکمل معذور ہوگیا۔اور وہ ہمیشہ کےلئے وہیل چیئر کے ہو کر رہ گئے۔اس معذوری کے باوجود امجد صدیقی نے ہمت نہیں ہاری۔

زبردست محنت اورچیلنجوں کے ساتھ جوانمردی، ثابت قدمی اور خودداری سے اِس معذوری کا مقابلہ کیا۔انہوں نے کبھی معذوری کو مجبوری نہیں بنایا۔وہ ڈیڑھ سال تک مختلف اسپتالوں میں زیر علاج رہے، ان کے درجنوں آ پریشن ہوئے۔دن رات سخت امتحانات سے گزرے۔بار ہا زندگی اور موت سے آمنا سامنا ہوا مگر ﷲ تعالیٰ نے انہیں زندہ رکھا اوروہ دوسروں کے لئے مشعل راہ بن گئے۔

امجد صدیقی نے کہا کہ علاج کے دوران ایک ڈاکٹر نے ان سے یہاں تک کہہ دیا کہ

”اﷲ کرے! آپ کو موت آجائے کیونکہ آپ جیسے مریض کی زندگی موت سے بد تر ہوتی ہے۔ایسا شخص اہل خانہ ، دوستوں اور معاشرے پر بوجھ ہوتا ہے چنانچہ ایسے شخص کا زندگی سے آزاد ہوجانا عزیز واقارب اورمعاشرے کے لئے بہتر ہوتا ہے۔موت پر دکھ ضرور ہوتا ہے مگر کچھ عرصے کے بعد صبر آجاتا ہے اور زندگی نارمل ہوجاتی ہے مگر پیرا پلیجک یا کوارٹرپلیجک مریض بری طرح مرتا اور جیتا ہے۔اس کا جسم بےحس اور بے جان ہوتا ہے۔وہ بالکل حرکت نہیں کرسکتا۔حوائج ضروری پر اس کا کنٹرول نہیں ہوتا، وہ مرضی کے مطابق کھاپی نہیں سکتا۔ جسم متحرک نہ ہونے سے جگہ جگہ بیڈ سور ہوجاتے ہیں جو ایک نا سورہوتے ہیں۔ایسا شخص زندہ لاش کی مانند ہوتا ہے، نہ جیتا ہے، نہ مرتا ہے۔“

امجد صدیقی کہتے ہیں کہ مجھے اِس ڈاکٹر پر غصہ آیا کہ اس نے ایسا کیوں کہا ۔دل چا ہاکہ اس سے جھگڑوں، اس کا منہ نوچ لوں مگر سچ تو یہ ہے کہ چھتیس (36)سال کے دوران اکثر اس کی بات سچی لگتی تھی۔پھر بھی میں نے ہمت نہیں ہاری۔میرا مقصد اس ڈاکٹر کی سوچ کی نفی کرناتھا۔یہ حقیقت ہے کہ میں نے انتہائی تکلیف دہ آگ میں زندہ جل جل کر وقت گزارا مگرایک چٹان کی مانند اپنے مشن پر ڈٹارہا۔جب میرے اپنوں کو یقین ہو گیا کہ میں ہمیشہ کےلئے معذور ہوگیا ہوں تو سب دوست ، رشتہ دار، انتہائی قریبی خون کے رشتے دور ہوتے چلے گئے۔یہ تلخ حقیقت ہے آج کا انسان چڑ ھتے سورج کو سلام کرتا ہے ۔انسان میں اگر ہمت ہو، خلوص ہو، ثابت قدمی اور خودداری ہوتو ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔میں نے ”جہاں چاہ، وہاں راہ“کے اصول پر عمل کرتے ہو ئے اس کریش سے دوبارہ زندگی کا آغاز کیا اور ثابت کیا کہ زندگی میں ناممکن کچھ نہیں۔

شدید معذوری میں مبتلا ہونے کے باوجود امجد صدیقی مشرق وسطیٰ اور ایشیامیں پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے 1986ء اور 1987ء میں تن تنہاویل چیئر پر52 ممالک کادورہ کیا جس کا مقصد معذور افراد کی زندگی اوردنیا بھر میں اس بیماری پر ہونے والی تحقیق کے بارے میں معلومات حا صل کرنا تھا۔انہوں نے اپنے دورے کے دوران دنیا بھر کے مختلف ریسرچ سنٹروں اور بحالی مراکزکا دورہ کیا اور معلومات جمع کیں۔ان کے اس دورے کو عالمی سطح پر بہت پذیرائی ملی، انہیں Hero of the year کے اعزازات سے نوازا گیا۔دنیا بھر کے میڈیا نے ان کی زندگی، شخصیت اور مشن کو ہر طرح سے اجاگرکیا اوراسے A man on his mission کا نام دیا۔

امجد صدیقی نے دنیا کے ان ریسرچ سنٹروں کا دورہ کیا جو پیرا پلیجک(Paraplegic) کی زندگی پرتحقیق کررہے تھے۔امجد صدیقی نے تحقیق کے لئے دنیا بھر کے ریسرچ سنٹروں کوپیشکش کی کہ وہ جب چاہیں ان کے وجود کواپنے تجربات کےلئے استعمال کرسکتے ہیں۔دنیا بھر کے میڈیا نے ان سے اقدام کو سراہا اور زبردست تشہیر کی۔ان کے سیکڑوں انٹرویو زنشر کے گئے۔انہیں One in one million کا اعزازبھی دیا گیا ۔

مڈل ایسٹ اور ایشیا میں امجد صدیقی پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے1987 میں الیکٹریکل فنکشنل سمیولیٹر کیلئے اپنے قدموں پر کھڑے ہوکر 91میٹر تک کا فاصلہ طے کیا۔یہ پہلا کامیاب تجربہ تھا جو یوگو سلاویہ میں کیا گیاتھا۔1989ءمیں تجرباتی طور پر ایک نئی ایجاد کے ذریعے امجد صدیقی کو پیراواکر(Disability Walker)کے ذریعے چلانے کا کامیا ب تجربہ کیا گیا۔اس میں خاطر خواہ کا میا بی ہوئی ۔پیراوا کرکی مدد سے چلنے کے باعث ان کی عملی زندگی انتہائی سست روی کا شکار ہو گئی تھی مگر انہیں سخت کام کرنے کی عادت تھی اس لئے انہوں نے دوبارہ وہیل چیئر کو اہمیت دی۔

4اپریل 1986 امجد کی زندگی کا یادگار دن تھا جب انہوں نے 22ہزار نارمل لوگوں کے ساتھ12 کلو میٹرکی مراتھن(Marathon) جیت کر پہلے پاکستانی وہیل چیئر Winnerہونے کا اعزاز حاصل کیا جس پر ایک بار پھر عالمی سطح پر انہیں خراج تحسین پیش کیاگیا۔امجد صدیقی پہلے پیراپلیجک(Paraplegics) ہیں جن کی 1987 میں انتہائی پیچیدہ سرجری کی گئی ۔یہ اپنی نوعیت کی دنیا بھر میں پہلی سرجری تھی جس سے امجد صدیقی کی معذوری دور کردی گئی۔ اس سرجری میں جرمن ، امریکن اور کینیڈین ڈاکٹروں کی ٹیم نے حصہ لیا اور اسے براہ راست کئی اسپتالوں، ریسرچ سنٹروں اور یونیورسٹیوں میں بطور لیکچردکھایا گیا بعد ازاں وہ دو بچوں کے باپ بھی بنے۔

حادثے سے پہلے امجد صدیقی ایک بینک میں ملازم تھے مگرحادثے کے بعد انہیں میڈیکل بنیادبناکر نکال دیا گیا۔1984میں دن رات کی سخت جدوجہد کے بعد امجد صدیقی نے دوبارہ اسی بینک میں سروس جوائن کی اوراٹھارہ ، اٹھارہ گھنٹے کام کرکے ثابت کردیاکہ جسم تو معذور ہو سکتے ہیں لیکن صلاحیتیں کبھی معذور نہیں ہوتیں۔

1992ءمیں امجد صدیقی نے بینک سروس کو خیرباد کہہ کراپنا کاروبار شروع کیا، رات دن محنت کی اور ایسے نا ممکن کام کردکھائے جو شاید صحت مند بھی نہیں کرسکتے۔انہوں نے امپورٹ ایکسپورٹ ٹریڈنگ اور ریسٹورنٹ انڈسٹری ، مارکٹنگ جیسے بزنس کئے۔پاکستان، کوریا، کینیڈا، چائنا، سعودی عرب اور ہانگ کانگ میں اپنے آفس بنائے ۔دنیا بھر میں دستیاب ہرطرح کے ذرائع آمدورفت استعمال کئے اور جتنا سفر انہوں نے کیا اور کررہے ہیں ، شاید ہی دنیا بھر سے کسی معذور نے کیا ہو۔

امجد صدیقی پاکستان سعودی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر بھی ہیں۔وہ ایک کامیاب بزنس مین کی حیثیت سے سعودی عرب اور پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ان کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ معذوری کی زندگی انتہائی سخت ہوتی ہے۔جگہ جگہ تکلیفوں ، مصیبتوں ، تعصب سے بھر پور تضحیک آمیزسلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر قوت ارادی، حوصلہ مندی ، ہمت صبر سے اس کا مقابلہ کر کے ہم معذوری کو شکست دے سکتے ہیں ۔اس کی زندہ مثال میں خود ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: کامیابی کا راز محنت میں پوشیدہ ہے

امجد صدیقی نے کئی ویلفیئر پراجیکٹس شروع کررکھے ہیں جہاں غریبوں اورضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے۔اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ وہ فرصت کے اوقات میں مختلف اسپتالوں، بحالی مراکز میں جا کر معذور افراد کی فلاح و بہود، ان کی زندگی کوآسان بنانے کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزارتے ہیں۔امجد صدیقی کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے ۔ان سے جو بھی ایک بار ملتا ہے، وہ ان کی ہمت ، حوصلے، خودداری ، ثابت قدمی، سخت محنت اور ایمانداری کی دادد یئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وہ سعودی عرب میں پاکستان کی پہچان ہیں۔

امجد صدیقی نے کہا کہ ایمانداری اور محنت کامیابی کی ضمانت ہے۔ہر قدم پر زندگی میں کئی بار میں نے موت کو دیکھا۔اکثر اوقات میری جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔ظالم سماج نے بار ہامیری زندگی کی ٹرین کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کی مگر اﷲتعالیٰ کے فضل وکرم سے میں نے ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کیا اور اسے شکست دی۔الحمدﷲ! میں معاشرے میں با عزت زندگی گزاررہا ہوں، درجنوں انعامات ، انعامی شیلڈز، منفرد اعزازات سے نواز اجاچکا ہوں۔اﷲتعالیٰ کے فضل سے دوبیٹوں کا باپ ہوں۔اب بھی گاڑی خود چلاتا ہوں، اپنے کام خود کرتا ہوں اگر چہ میں شادی شدہ ہوں مگر اپنا کام خود کرنے سے سکون اور خوشی ملتی ہے ۔

امجد صدیقی کا شمار اصول پسند ، ایماندا ر اور کامیاب بزنس شخصیات میں ہوتا ہے۔ان کی زندگی تجربات ، چیلنج، جدوجہد، محنت، مشقت اور ایڈونچر سے بھرپور ہے۔پاکستان میں شایدہی کوئی دوسری ایسی شخصیت ہوگی جس نے شدید معذوری کے باوجودزندگی کے ہر میدان میں دنیا بھر میں کامیابی کے جھندے گاڑے ہوں۔امجد صدیقی نے متعدد سپورٹس مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ان کی ساری زندگی نت نئے کارناموں ، تجربات اور ایڈونچر سے بھرپور ہے۔ انھوں نے معزوری کے باوجود ہر ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

امجد صدیقی کا کہنا ہے کہ آخر کب تک پاکستان میں بسنے وا لے کروڑوں معذور آنسوؤں، نفرتوں سے بھری زندگی میں سسک سسک کردم توڑتے رہیں گے۔ملک بھر کے کروڑوں عوام کے لئے آج تک کسی نے بھی اس سنگین مسئلہ پر سوچنے اور اسے حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔حالات اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہر پاکستانی معذور افراد کی فلاح اور ان کی زندگی کو آ سان سے آسان تر بنا نے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معذورافرادکو اپنے معاشرے کا حصہ سمجھ کر ان کے علاج اوربحالی کے لئے عملی اقدامات کریں تاکہ ان کی زندگی قدرے آسان ہوسکے۔

والدین ، بہن بھائیوں اوردوستوں کا فرض ہے کہ وہ ان کو وہی پیار دیں جودوسرے نارمل لوگوں کو دیتے ہیں۔ان افرادکی فلاح وبہبود کے لئے کوئی کسر اٹھانہ رکھیں۔ا نہیں معاشرے میں باعزت مقام دینے قابل احترام، نارمل اور کار آمد شہری بنانے میں اپنا بھرپور کردارادا کریں۔سرکاری ، غیر سرکاری محکموں میں افسروں کا رویہ بھی دوستانہ ہوناضروری ہے۔ہر شہری کا فرض ہے کہ معذور افراد کا احترام کرے اور عزت سے پیش آئے۔سب سے بڑھ کر ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ معذورافراد کے متعلق معاشرے میں آگاہی پیدا کریں۔صحافی عملی کردارادا کرکے معذورافراد کو حق دلاسکتے ہیں۔

حرف آخر: اگر کوئی صحت مند انسان کسی بیماری یا حادثے کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر ہو گیا ہے یا اِس کے جسم کا کوئی حصہ ناکارہ ہو گیا ہے تو اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ آدمی بے کار ہو گیا ہے ۔اس کا دل و دماغ اپنی جگہ کام کررہے ہوتے ہیں۔ عام انسان کی طرح اس کو بھی جینے کا حق ہوتا ہے۔ہمیں ایسے لوگوں کے چہروں پر مایوسی کے بجائے خود انحصاری، اعتماد اور اُمید کو اجاگر کرنا ہو گا۔کیونکہ انسانی خدمت کا یہ عمل ہمارا فریضہ ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں